23 ستمبر 2018 - 18:42
 دہشتگردی عالمی مسئلہ ، اسلامی ممالک دہشتگردی اور سازشوں کا شکار ہیں: علامہ ساجد نقوی

ایران کے صوبہ خوزستان کے صدر مقام اہواز میں ہفتہ دفاع مقدس کی مناسبت سے مسلح افواج کی پریڈ پردہشتگردانہ حملہ کی شدید مذمت کرتے ہیں ،قائد ملت جعفریہ

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ راولپنڈی /اسلام آباد 23ستمبر 2018ء قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے اسلامی جمہوریہ ایران کے صوبہ خوزستان کے صدر مقام اہواز میں ہفتہ دفاع مقدس کی مناسبت سے مسلح افواج کی پریڈ پردہشتگردانہ حملہ جس کے نتیجہ میں 25قیمتی جانی ضیاع اور60کے قریب زخمی ہونے پر دکھ کا اظہار اور شدیدالفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی عالمی مسئلہ، بالخصوص اسلامی ممالک دہشتگردی اور سازشوں کا شکار ہیں ، کرب اور دکھ کی اس گھڑی میں پاکستانی قوم ایرانی بھائیوں کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں اور ایران کے غمزدہ خاندانوں کے لیے دعا گو ہے۔علامہ ساجد نقوی نے انڈین آرمی چیف کے بیان پر اپنے ردعمل کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی قوم اپنے وطن عزیزکی حفاظت کے لئے کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کرئے گی اور پوری قوم حب الوطنی کے جذبہ سے سرشار ہے ، پاکستان کے امن کی خواہش کو کمزوری نہیں سمجھنا چاہیے ،پاکستان امن پسند ملک اور ایک ایٹمی طاقت ہے، انڈیا مقبوضہ کشمیر میں عوامی جدوجہد سے خوفزدہ ہے ، مقبوضہ کشمیرمیں آزادی کی تحریک چل رہی ہے، کشمیریوں کی تیسری نسل قربانیاں دے رہی ہے، بھارت مقبوضہ کشمیر میں سیاسی جدوجہد کو دبانہیں پایا تو اب جنگ کی دھمکیوں پر اتر آیا۔علامہ ساجد نقوی کا کہنا تھاکہ مشکل گھڑی میں پوری قوم ایک پیج پر متفق و متحد ہے اپنے ملک پر آنچ نہیں آنے دیں گے ۔علاوہ ازیںعلامہ ساجد نقوی نے وزیر اعظم عمران خان کے اس بیان پر کہ حوثیوں کے مقابلے سعودی عرب کی مدد کریں گے پر کہا کہ اس سے قبل وزیر ا عظم کا بیان تھا کہ ہم کسی اور ملک کی جنگ یا پراکسی وار کا حصہ نہیں بنیں گے مصالحت کا کر دار ادا کریں گے،اگر وزیر اعظم عمران خان کے ان ونوں بیانات کو سامنے رکھیں تویہ کھلا تضاد نظر آتا ہے اس قسم کے بیانات پاکستان کے مفادمیں نہیں ہیں اور نہ ہی یہ بیان پاکستان کے عوام کی ترجمانی کر تاہے ۔علامہ ساجد نقوی کا مزید کہنا تھا کہ اگر آپ مصالحت کا کر دار ادا کر نا چاہتے ہیں تو ایسے بیانوں سے گریز کریں اگر مصالحت نہیں کرسکتے تو ہمیں فریق بھی نہیں بننا چاہیے ،فریقین کو خود بھگتنے دیں کہ وہ اپنے معاملات خود نمٹائیں ۔علامہ ساجد نقوی کا مزید کہنا تھا کہ قومی معاملات پر فیصلے تمام طبقات کی مشاورت سے کئے جائیں، پاکستان کی خاطر قربانی دینے والے بنگلہ دیشی اور دربدربہاریوں سمیت تمام شہریت سے محروم طبقات کا جو حق بنتا ہے وہ دیا جائے ، بنیادی انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے۔علامہ ساجد نقوی کا مزید کہنا تھا کہ شہریت سے محروم معاشرے کے افراد کو قومی دھارے میں لانے کےلئے وزیراعظم کی جانب سے پہلے اعلان اور بعدازاں قومی اسمبلی میں وضاحت پیش کی گئی جو نامناسب تھی ، قومی معاملات پر بیانات یا فیصلے تمام طبقات کی آرا اور باہمی مشاورت سے کئے جائیں ، بنیادی انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کی فراہمی ریاست پاکستان کی اولین ذمہ داری ہے۔فلاحی ریاست کے قیام کےلئے ضروری ہے کہ بنیادی انسانی حقوق کی پاسدار کی جائے اور بنیادی حقوق کےساتھ شہری آزادیوں کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔   

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲